اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،محمد علی الحوثی نے کہا کہ خطے میں امن و سلامتی کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرنے سے متعلق سعودی وزارتِ خارجہ کے دعوے، یمن کے خلاف قتل و غارت، محاصرے، حملوں اور قبضے پر مبنی اقدامات سے میل نہیں کھاتے۔
انہوں نے زور دیا کہ سعودی عرب کو عملی طور پر حملے بند کرنے، یمن کا محاصرہ ختم کرنے اور وہاں سے نکلنے کے اقدامات کرنے چاہییں۔ الحوثی نے ۲۰۱۵ء سے جاری جنگ کے دوران یمن میں ہونے والی تباہی کے نتیجے میں پہنچنے والے نقصانات کے ازالے کا بھی مطالبہ کیا۔
محمد الحوثی نے مکہ مکرمہ کے دفاع کے نام پر کیے جانے والے اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح سعودی عرب کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو خطے میں امن کو اہمیت دیتا ہے، جبکہ وہ یمن کے خلاف اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے مصری فوج کو ایک نئی جنگ میں دھکیلنے کے حوالے سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ ایسی جنگ مصر کی صلاحیتوں کو کمزور کر دے گی اور جزیرہ نما سینا پر حملے کے لیے صیہونی دشمن کے منصوبوں کی تکمیل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
الحوثی نے کہا کہ ہمیں کسی نئے اتحاد سے خوف نہیں، تاہم ایسے اتحادوں کو صیہونی دشمن کے مقابلے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، جو خطے کی اقوام کے خلاف جنگ کا اعلان کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مصر، ترکی اور پاکستان کو یمن کے خلاف حملوں، محاصرے اور قبضے کے تسلسل کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔
آبنائے باب المندب میں بحری جہاز رانی کی صورتِ حال کے بارے میں الحوثی نے کہا کہ ہم اس گزرگاہ کے لیے خطرہ نہیں، بلکہ اس کی حفاظت کرتے ہیں، جس طرح نہر سویز اور اپنی عرب و اسلامی سرزمین کے دیگر حصوں کا تحفظ کرتے ہیں۔
محمد الحوثی نے کہا کہ غیر واضح اور غیر اعلانیہ خطرات کے ذریعے عوام میں خوف پیدا کرنا وہ طریقہ ہے جسے امریکی، برطانوی اور اسرائیلی خفیہ ادارے عرب اور اسلامی دنیا میں تنازعات جاری رکھنے کے لیے اختیار کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ کو یقین ہوتا کہ نیا اتحاد اس کے یا صیہونی حکومت کے مفادات کو نقصان پہنچائے گا تو وہ سب سے پہلے اس کی مخالفت کرتا اور اسے روکنے کا حکم دیتا۔
الحوثی کے مطابق، نام نہاد ’’مکہ اتحاد‘‘ خطے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے تسلط پسندانہ منصوبوں کی خدمت کرتا ہے اور ان آزادی پسند قوتوں کے مقابل کھڑا ہے جو ان پالیسیوں کی مخالفت کرتی ہیں۔
انہوں نے اس اتحاد کے ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سے الگ ہو جائیں، یمن کے خلاف جارحانہ اتحادوں میں شرکت سے گریز کریں اور اپنی کوششوں کو فلسطین کے دفاع اور خطے کو امریکی و صیہونی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے وقف کریں۔
محمد الحوثی نے امید ظاہر کی کہ جاری اجلاس خطے میں امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر یمن کے عوام کے خلاف حملوں، قبضے اور جرائم کے تسلسل کی مخالفت کی۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، بلکہ آزادی، خودمختاری اور حقیقی امن کے خواہاں ہیں، ایسا امن جو ہمارے ملک، عوام اور امت کے مفادات کا تحفظ کرے۔
آپ کا تبصرہ